اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، دمشق میں العالم نیٹ ورک کے مقامی ڈائریکٹر "حسین مرتضی" نے باخبر ذرائع کے حوالے سے جند الشام کے بدنام زمانہ دہشت گرد کمانڈر اور عراقی شہریت کے حامل ابو عبدالعزیز القطری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔مذکورہ دہشت گرد کمانڈر کو اپنی شدت پسندی اور درندگی کی بنا پر شام میں تشدد پسند تنظیموں کا باپ سمجھا جاتا ہے اور اسی بنا پر اس کو "شامی عبداللہ العزام" کا لقب دیا گیا ہے۔

القطری اپنے تکفیری رقیب گروپ "شہدائے شام یونٹس" کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا ہے جس کا کمانڈر ایک سعودی شہری جمال معروف ہے۔اطلاعات کے مطابق القطری ادلب کے علاقے جبل الزاویہ میں مارا گیا ہے۔ یاد رہے کہ عبداللہ عزام عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے بانیوں میں شمار ہوتا تھا اور اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے ساتھ افغانستان میں لڑتا ہوا ہلاک ہوگیا تھا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن نے القاعدہ کی قیادت سنبھالنے کی غرض سے عبداللہ عزام کو مروا دیا تھا۔ القطری اپنے نام کے برعکس، قطر کا باشندہ نہيں بلکہ عراقی باشندہ تھا اور "عرب افغانوں" کے زمرے میں آتا تھا کیونکہ وہ افغانستان میں بھی لڑا تھا اور بن لادن کا قریبی ساتھی، تشدد پسند تنظیموں کا روحانی باپ اور القاعدہ کے بانیوں میں، شمار ہوتا تھا۔ گوکہ ابو عبدالعزیز القطری کے مکمل کوائف کو ابھی تک صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے تاہم بعض ذرائع کے مطابق وہ جبہۃالنصرہ کے ساتھ تعاون کرنے والے دہشت گرد "میسرہ الجبوری" کے ہمراہ شام میں داخل ہوا تھا۔ میسرہ الجبوری بھی جبہۃ النصرہ کے ساتھ تعاون کرنے کی بنا پر امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭